ابنا: صدر مملکت ڈاکٹر "حسن روحانی" نے آج ڈاؤس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں خطاب کے بعد شام کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے بارے میں جواب دیتے ہوئے تاکید کی شام میں ہونے والی جھڑپوں میں لاکھوں بے گناہ عوام ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں اور اسی طرح میلینوں افراد بے گھر ہوئے اور سردی کے موسم میں شامی پناہ گزینوں کی حالت نہایت ہی تشویشناک ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر "حسن روحانی" نے تاکید کی کہ شام سے دھشتگردوں کی مکمل پسپائی کے بعد غیرملکی مداخلت کے بغیر شام کے حکومت مخالفین اور اس ملک کی موجودہ حکومت کے درمیان مذاکرات کے لئے زمین ہموار کی جائے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے تاکید کی کہ تمام فریقین کو آزاد و شفاف انتخابات میں شام کے عوام کی آراء کا حتمی طور پر احترام کرنا چاہیے۔ صدر مملکت روحانی نے شام میں اور دیگر براعظموں میں دھشتگردوں گروہوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دھشتگرد گروہ نہایت ہی بے رحمی کے ساتھ بے گناہ عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں حتی یہ دھشتگرد عناصر اپنے ہی ساتھیوں پے رحم نہیں کرتے اور آپس میں بھی ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ صدر مملکت "حسن روحانی" اس امر پر تاکید کے ساتھ کہ سب کو ملکر دھشتگردوں کو شام سے نکال باہر کرنے کے لئے مدد کرنی چاہیے ، دھشتگردوں کے حامی ممالک کو نصحت کی کہ انہیں کچھ نہیں ملنے والا اور ممکن ہے آئندہ ان کو بھی اسی قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑے۔
.......
/169